فهرس الكتاب

الصفحة 557 من 6348

61۔ 1 یہ آیات ایسے لوگوں کے بارے میں نازل ہوئیں جو اپنا فیصلہ عدالت میں لے جانے کی بجائے سرداران یہود یا سرداران قریش کی طرف لے جانا چاہتے تھے تاہم اس کا حکم عام ہے اس میں تمام وہ لوگ شامل ہیں جو کتاب و سنت سے اعراض کرتے ہیں اور اپنے فیصلوں کے لئے ان دونوں کو چھوڑ کر کسی اور کی طرف جاتے ہیں۔ ورنہ مسلمانوں کا تو یہ حال ہوتا ہے (اِنَّمَا کَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْٓا اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا) 024:051 کہ جب انہیں اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو وہ کہتے ہیں کہ سَمِنَا وَ اَطَعْنَا ایسے لوگوں کے بارے میں آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وَ اوْلَئِکَ ھُمُ المُفْلِحُوْنَ) 024:051 یہی لوگ کامیاب ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت