* نزول کے اعتبار سے یہ اخری سورت ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب التفسیر) جس وقت یہ سورت نازل ہوئی تو بعض صحابہ رضی اللہ سمجھ گئے کہ اب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا آخری وقت آ گیا ہے، اسی لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسبیح وتحمید اور استغفار کا حکم دیا گیا ہے جیسے حضرت ابن عباس اور حضرت عمر رضی اللہ عنھما کا واقعہ صحیح بخاری میں ہے۔ (تفسیر سورۃ النصر)