فهرس الكتاب

الصفحة 4631 من 6348

2۔ 1 اس سے مراد ترک اولی والے معاملات یا وہ امور ہیں جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے فہم واجتہاد سے کیے لیکن اللہ نے انہیں ناپسند فرمایا جیسے عبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ وغیرہ کا واقعہ ہے جس پر سورۃ عبس کا نزول ہوا یہ معاملات وامور اگرچہ گناہ اور منافی عصمت نہیں لیکن آپ کی شان ارفع کے پیش نظر انہیں بھی کو تاہیاں شمار کرلیا گیا جس پر معافی کا اعلان فرمایا جا رہا ہے لیغفر میں لام تعلیل کے لیے ہے یعنی یہ فتح مبین ان تین چیزوں کا سبب ہے جو آیت میں مذکور ہیں اور یہ مغفرت ذنوب کا سبب اس اعتبار سے ہے کہ اس صلح کے بعد قبول اسلام کرنے والوں کی تعداد میں بکثرت اضافہ ہوا جس سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اجر عظیم میں بھی خوب اضافہ ہوا اور حسنات وبلندی درجات میں بھی۔

2۔ 2 اس دین کو غالب کر کے جس کی تم دعوت دیتے ہو، یا فتح وغلبہ عطا کر کے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ مغفرت اور ہدایت پر یہی تمام نعمت ہے (فتح القدیر)

2۔ 3 یعنی اس پر استقلال نصیب فرمائے۔ ہدایت کے اعلیٰ سے اعلیٰ درجات سے نوازے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت