24۔ 1 کہتے ہیں کہ خلق کا مطلب ہے اپنے ارادہ و مشیت کے مطابق اندازہ کرنا اور براَ کے معنی ہیں اسے پیدا کرنا، گھڑنا، وجود میں لانا۔
24۔ 2 اسمائے حسنٰی کی بحث (وَلِلّٰہِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بِہَا ۠ وَذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْٓ اَسْمَاۗیِٕہٖ ۭ سَیُجْزَوْنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ 180۔) 7۔ الاعراف:180) میں گزر چکی ہے۔
24۔ 3 زبان حال سے بھی اور زبان مقال سے بھی، جیسا کہ پہلے بیان ہوا۔
24۔ 4 جس چیز کا بھی فیصلہ کرتا ہے، وہ حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔