6۔ 1 یہاں رؤیت سے مراد رؤیت قلبی یعنی علم یقینی ہے، محض رؤیت بصری (آنکھ کا دیکھنا) نہیں اہل علم سے مراد صحابہ کرام یا مومنین ہیں۔ یعنی اہل ایمان اس بات کو جانتے اور اس پر یقین رکھتے ہیں۔
6 ۔ 2 یہ عطف ہے حق پر، یعنی وہ بھی جانتے ہیں کہ یہ قرآن کریم اس راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو اس اللہ کا راستہ ہے جو کائنات میں سب پر غالب ہے اور اپنی مخلوق میں محمود (قابل تعریف) ہے اور وہ راستہ کیا ہے؟ توحید کا راستہ جس کی طرف تمام انبیا علیھم السلام اپنی اپنی قوموں کو دعوت دیتے رہے۔