62۔ 1 یعنی جب اپنے اس کرتوت کی وجہ سے عتاب الٰہی کا شکار ہو کر مصیبتوں میں پھنستے ہیں تو پھر آکر کہتے ہیں کہ کسی دوسری جگہ جانے سے مقصد یہ نہیں تھا کہ وہاں سے ہم فیصلہ کروائیں یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ ہمیں انصاف ملے گا بلکہ مقصد صلح اور ملاپ کرانا تھا۔