فهرس الكتاب

الصفحة 750 من 6348

77۔ 1 یعنی اتباع حق میں حد سے تجاور نہ کرو اور جن کی تعظیم کا حکم دیا گیا ہے، اس میں مبالغہ کر کے انہیں منصب نبوت سے اٹھا کر مقام الویت پر فائز مت کرو، جیسے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے معاملے میں تم نے کیا۔ غلو ہر دور میں شرک اور گمرہی کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ انسان کو جس سے عقیدت اور محبت ہوتی ہے، وہ اس کی شان میں خوب مبالغہ کرتا ہے۔ وہ امام اور دینی قائد ہے تو اس کو پیغمبر کی طرح معصوم سمجھنا اور پیغمبر کو خدائی صفات سے متصف ماننا عام بات ہے، بد قسمتی سے مسلمان بھی اس غلو سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ انہوں نے بعض ائمہ کی شان میں بھی غلو کیا اور ان کی رائے اور قول، حتٰی کہ ان کی طرف منسوب فتویٰ اور فقہ کو بھی حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابلے میں ترجیح دے دی۔

77۔ 2 یعنی اپنے سے پہلے لوگوں کے پیچھے مت لگو جو ایک نبی کو اللہ بنا کر خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت