فهرس الكتاب

الصفحة 790 من 6348

117۔ 1 حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے توحید و عبادت رب کی یہ دعوت عالم شیر خوارگی میں بھی دی، جیسا کہ سورۃ مریم میں ہے اور عمر جوانی و کہولت میں بھی۔

117۔ 2 توفیتنی کا مطلب ہے جب تو نے مچھے دنیا سے اٹھالیا جیسا کہ اس کی تفصیل سورۃ آل عمران کی آیت 55 میں گزر چکی ہے اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ پیغمبروں کو اتنا ہی علم ہوتا ہے جتنا اللہ کی طرف سے انہیں عطا کیا جاتا ہے یا جن کا مشاہدہ وہ اپنی زندگی میں اپنی آنکھوں سے کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ ان کو کسی بات کا علم نہیں ہوتا۔ جب کہ عالم الغیب وہ ہوتا ہے جسے بغیر کسی کے بتلائے ہر چیز کا علم ہوتا ہے اور اس کا علم ازل سے ابد تک پر محیط ہوتا ہے۔ یہ صفت علم اللہ کے سوا کسی اور کے اندر نہیں اس لئے عالم الغیب صرف ایک اللہ ہی کی ذات ہے اس کے علاوہ کوئی عالم الغیب نہیں حدیث میں آتا ہے کہ میدان محشر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف آپ کے کچھ امتی آنے لگیں گے تو فرشتے ان کو پکڑ کر دوسری طرف لے جائیں گے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمائیں گے ان کو آنے دو یہ تو میرے امتی ہیں فرشتے آ کر بتلائیں گے انک لاتدری ما احدثوا بعدک اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نہیں جانتے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد انہوں نے دین میں کیا کیا بدعتیں ایجاد کیں جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ سنیں گے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں بھی اس وقت یہی کہوں گا جو العبد الصالح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا (وکنت علیھم شھیدا ما دمت فیھم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم(صحیح بخاری، صحیح مسلم)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت