24۔ 1 عرصہ دراز سے ان کے ہاں بارش نہیں ہوئی تھی امنڈتے بادل دیکھ کر خوش ہوئے کہ اب بارش ہوگی بادل کو عارض اس لیے کہا ہے کہ بادل عرض آسمان پر ظاہر ہوتا ہے۔
24۔ 1 یہ حضرت ہود (علیہ السلام) نے انہیں کہا کہ یہ محض بادل نہیں ہے جیسے تم سمجھ رہے ہو۔ بلکہ یہ وہ عذاب ہے جسے تم جلدی لانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
24۔ 3 یعنی وہ ہوا جس سے اس قوم کی ہلاکت ہوئی ان بادلوں سے ہی اٹھی اور نکلی اور اللہ کی مشیت سے ان کو اور ان کی ہر چیز کو تباہ کرگئی اسی لیے حدیث میں آتا ہے حضرت عائشہ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ لوگ تو بادل دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ بارش ہوگی لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے پر اس کے برعکس تشویش کے آثار نظر آتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عائشہ (رض) اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اس بادل میں عذاب نہیں ہوگا جب کہ ایک قوم ہوا کے عذاب سے ہی ہلاک کردی گئی اس قوم نے بھی بادل دیکھ کر کہا تھا یہ بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔ البخاری۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب باد تند چلتی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا پڑھتے اللھم انی اسالک خیرھا وخیر ما فیھا وخیر ما ارسلت بہ واغوذبک من شرھا وشر ما ارسلت بہ اور جب آسمان پر بادل گہرے ہوجاتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رنگ متغیر ہوجاتا اور خوف کی سی ایک کیفیت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر طاری ہوجاتی جس سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اطمینان کا سانس لیتے (صحیح مسلم)