17۔ 1 یعنی تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کو، جنہیں مٹی سے بنایا گیا اور پھر اس میں اللہ نے روح پھونکی۔ یا اگر تمام انسانوں کو مخاطب سمجھا جائے، تو مطلب ہوگا کہ تم جس نطفے سے پیدا ہوتے ہو وہ اسی خوراک سے بنتا ہے جو زمین سے حاصل ہوتی ہے، اس اعتبار سے سب کی پیدائش کی اصل زمین ہی قرار پائی ہے۔