فهرس الكتاب

الصفحة 166 من 6348

158۔ 1 شَعْآئِرُ جس کے معنیٰ علامتیں ہیں یہاں حج کے وہ مناسک (مثلا سعی اور قربانی کو اشعار کرنا وغیرہ) مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں۔

158۔ 2 صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا حج کا ایک رکن ہے۔ لیکن قرآن کے الفاظ (فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ) 002:158 سے بعض صحابہ کو یہ شبہ ہوا کہ شاید ضروری نہیں ہے۔ حضرت عائشہ (رض) کے علم میں جب یہ بات آئی تو انہوں نے فرمایا ( فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِہِمَا) 002:158۔ جب لوگ مسلمان ہوئے تو ان کے ذہین میں آیا کہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی تو شاید گناہ ہو، کیونکہ اسلام سے قبل دو بتوں کی وجہ سے سعی کرتے رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کے اس وہم کو اور خلش کو دور فرما دیا۔ اب یہ سعی ضروری ہے جس کا آغاز صفا سے اور خاتمہ مروہ پر ہوتا ہے۔ (ایسرالتفاسیر)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت