82۔ 1 آیت میں یہاں ظلم سے مراد شرک ہے جیسا کہ ترجمہ سے واضح ہے حدیث میں آتا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام ظلم کا عام مطلب (کوتاہی اور غلطی، گناہ اور زیادتی وغیرہ) سمجھا، جس سے وہ پریشان ہوگئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آکر کہنے لگے، ہم میں سے کون شخص ایسا ہے جس نے ظلم نہ کیا ہو، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ' اس ظلم سے مراد وہ ظلم نہیں جو تم سمجھ رہے ہو بلکہ اس سے مراد شرک ہے جس طرح حضرت لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو کہا ( اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ) 31۔ لقمان:13) یقینا شرک ظلم عظیم ہے (صحیح بخاری) ۔