42۔ 1 یہاں سے ان لوگوں کا بیان شروع ہو رہا ہے جنہوں نے عذر اور معذرت کر کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت لے لی تھی دراں حالانکہ ان کے پاس حقیقت میں کوئی عذر نہیں تھا۔ عرض سے مراد جو دنیاوی منافع سامنے آئیں مطلب ہے مال غنیمت۔
42۔ 2 یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ شریک جہاد ہوتے۔ لیکن سفر کی دوری نے انہیں حیلے تراشنے پر مجبور کر دیا
42۔ 3 یعنی جھوٹی قسمیں کھا کر۔ کیونکہ جھوٹی قسم کھانا گناہ ہے۔