31۔ 1 یعنی جس طرح اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیری قوم میں سے وہ لوگ تیرے دشمن ہیں جنہوں نے قرآن کو چھوڑ دیا، اسی طرح گزشتہ امتوں میں بھی تھا، یعنی ہر نبی کے دشمن وہ لوگ ہوتے تھے جو گناہگار تھے، وہ لوگوں کو گمراہی کی طرف بلاتے تھے (مَثَلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّہِمْ اَعْمَالُہُمْ کَرَمَادِۨ اشْـتَدَّتْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ ۭ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا کَسَبُوْا عَلٰی شَیْءٍ ۭ ذٰلِکَ ہُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ) 6۔ الانعام:112) میں بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔
31۔ 2 یعنی یہ کافر گو لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں لیکن تیرا رب جس کو ہدایت دے اس کو ہدایت سے کون روک سکتا ہے؟ اصل ہادی اور مددگار تو تیرا رب ہی ہے۔