فهرس الكتاب

الصفحة 6313 من 6348

3۔ 1 ابتر ایسے شخص کو کہتے ہیں جو مقطوع النسل یا مقطوع الذکر ہو، یعنی اس کی ذات پر ہی اس کی نسل کا خاتمہ ہوجائے یا کوئی اس کا نام لیوا نہ رہے۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اولاد نرینہ زندہ نہ رہی تو بعض کفار نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ابتر کہا، جس پر اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی کہ ابتر تو نہیں، تیرے دشمن ہی ہونگے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نسل کو باقی رکھا گو اس کا سلسلہ لڑکی کی طرف سے ہی ہے۔ اسی طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اولاد معنوی ہی ہے، جس کی کثرت پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قیامت والے دن فخر کریں گے، علاوہ ازیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر پوری دنیا میں نہایت عزت و احترام سے لیا جاتا ہے، جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بغض و عناد رکھنے والے صرف صفحات تاریخ پر ہی موجود رہ گئے ہیں لیکن کسی دل میں ان کا احترام نہیں اور کسی زبان پر ان کا ذکر نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت