112۔ 1 اس آیت میں نبی اور اہل ایمان کو ایک تو استقامت کی تلقین کی جا رہی ہے، جو دشمن کے مقابلے کے لئے ایک بہت بڑا ہتھیار ہے۔ دوسرے حد سے بڑھ جانے سے روکا گیا ہے، جو اہل ایمان کی اخلاقی قوت اور رفعت کردار کے لئے بہت ضروری ہے۔ حتٰی کہ یہ تجاوز، دشمن کے ساتھ معاملہ کرتے وقت بھی جائز نہیں ہے۔