فهرس الكتاب

الصفحة 95 من 6348

87۔ 1 آیت ( وَقَفَّیْنَا مِنْ بَعْدِہٖ بالرُّسُلِ) 2۔ بقرہ:87) کے معنی ہیں موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد مسلسل پیغمبر آتے رہے حتٰی کہ بنی اسرائیل میں انبیاء کا سلسلہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ختم ہوگیا (بَیِّنَاتِ) سے معجزات مراد ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دئیے گئے تھے جیسے مردوں کو زندہ کرنا، کوڑھی اور اندھے کو صحت یاب کرنا وغیرہ جن کا ذکر ( وَرَسُوْلًا اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرَاۗءِیْلَ ڏ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُکُمْ بِاٰیَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ ۙ اَنِّیْٓ اَخْلُقُ لَکُمْ مِّنَ الطِّیْنِ کَہَیْــــَٔــۃِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْہِ فَیَکُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰہِ ۚ وَاُبْرِیُٔ الْاَکْمَہَ وَالْاَبْرَصَ وَاُحْیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اللّٰہِ ۚ وَاُنَبِّئُکُمْ بِمَا تَاْکُلُوْنَ وَمَا تَدَّخِرُوْنَ ۙفِیْ بُیُوْتِکُمْ ۭ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ 49؀ۚ) 003:049 میں ہے۔ ایک اور آیت میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو (رُوحُ لْآمین) فرمایا گیا ہے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حسان کے متعلق فرمایا (اے اللہ روح القدس سے اس کی تائید فرما) ایک دوسری حدیث میں ہے (جبرائیل(علیہ السلام) تمہارے ساتھ ہیں) معلوم ہوا کہ روح القدوس سے مراد حضرت جبرائیل ہی ہیں (فتح البیان ابن کثیر بحوالہ الحواشی) ۔

87۔ 2 جیسے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور حضرت زکریا و یحیٰی علیہما السلام کو قتل کیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت