فهرس الكتاب

الصفحة 3324 من 6348

46۔ 1 یعنی اگر آپ رسول برحق نہ ہوتے تو موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعے کا علم بھی آپ کو نہ ہوتا۔

46۔ 2 یعنی آپ کا علم، مشاہدہ روئیت کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ آپ کے پروردگار کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو نبی بنایا اور وحی سے نوازا۔

46۔ 3 اس سے مراد اہل مکہ اور عرب ہیں جن کی طرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے کوئی نبی نہیں آیا، کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد نبوت کا سلسلہ خاندان ابراہیمی ہی میں رہا اور ان کی بعث بنی اسرائیل کی طرف سے ہی ہوتی رہی بنی اسماعیل یعنی عربوں میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے نبی تھے اور سلسلہ نبوت کے خاتم تھے۔ ان کی طرف نبی بھیجنے کی ضرورت اس لئے نہیں سمجھی گئی ہوگی کہ دوسرے انبیاء کی دعوت اور ان کا پیغام ان کو پہنچتا رہا ہوگا۔ کیونکہ اس کے بغیر ان کے لئے کفر و شرک پر جمے رہنے کا عذر موجود رہے گا اور یہ عذر اللہ نے کسی کے لئے باقی نہیں چھوڑا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت