33۔ 1 یعنی کیا یہ بھی اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں جب فرشتے ان کی روحیں قبض کریں گے یا رب کا حکم (یعنی عذاب یا قیامت) آ جائے۔
33۔ 2 یعنی اس طرح سرکشی اور معصیت، ان سے پہلے لوگوں نے اختیار کئے رکھی، جس پر وہ غضب الٰہی کے مستحق بنے۔
33۔ 3 اس لئے اللہ نے تو ان کے لئے کوئی عذر ہی باقی نہیں چھوڑا۔ رسولوں کو بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر ان پر حجت تمام کردی۔
33۔ 4 یعنی رسولوں کی مخالفت اور ان کی تکذیب کر کے خود ہی انہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔