8۔ 1 ابن کثیر نے اخذ کا فاعل الرسول کو بنایا ہے اور مراد وہ بیعت لی ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کرام سے لیتے تھے کہ خوشی اور ناخوشی ہر حالت میں اطاعت کرنی ہے اور امام ابن جریر کے نزدیک اس کا فاعل اللہ ہے اور مراد وہ عہد ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں سے اس وقت لیا تھا جب انہیں آدم (علیہ السلام) کی پشت سے نکالا تھا، جو عہد الست کہلاتا ہے، جس کا ذکر (وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْـتَدْرِجُہُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَ 182ښ) 7۔ الاعراف:182) میں ہے۔