8۔ 1، 2 پہلے جملے کی تشریح سورۃ نساء آیت نمبر 135 میں دوسرے جملے کی سورۃ المائدۃ کے آغاز میں گزر چکی ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک عادلانہ گواہی کی اہمیت ہے، اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے جو حدیث میں آتا ہے حضرت نعمان بن بشیر کہتے ہیں میرے باپ نے مجھے عطیہ دیا تو میری والدہ نے کہا، اس عطیے پر آپ جب تک اللہ کے رسول کو گواہ نہیں بنائیں گے میں راضی نہیں ہوں گی۔ چنانچہ میرے والد انکی خدمت میں آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا کیا تم نے اپنی ساری اولاد کو اس طرح کا عطیہ دیا ہے؟ انہوں نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا ' اللہ سے ڈرو اور اولاد کے درمیان انصاف کرو ' اور فرمایا کہ میں ' ظلم پر گواہ نہیں بنوں گا ' (صحیح بخاری)