30۔ 1 یعنی ان مشرکین سے اعراض کرلیں اور تبلیغ و دعوت کا کام اپنے انداز سے جاری رکھیں، جو وحی آپ کی طرف نازل کی جاتی ہے، اس کی پیروی کریں۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا"اتبع ما اوحی الیک من ربک لا الہ الا ہو واعرض عن المشرکین"آپ خود اس طریقت پر چلتے ہیں رہیے جس کی وحی آپ کے رب تعالیٰ کی طرف سے آپ کے پاس آئی ہے اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور مشرکین کی طرف خیال نہ کیجئے۔
30۔ 2 یعنی اللہ کے وعدے کا کہ کب پورا ہوتا ہے اور تیرے مخالفوں پر تجھے غلبہ عطا فرماتا ہے؟ یقینا وہ پورا ہو کر رہے گا۔
30۔ 3 یعنی کافر منتظر ہیں کہ شاید یہ پیغمبر ہی گردشوں کا شکار ہوجائے اور اس کی دعوت ختم ہوجائے۔ لیکن دنیا نے دیکھ لیا کہ اللہ نے اپنے نبی کے ساتھ کئے ہوئے وعدوں کو پورا فرمایا اور آپ پر گردشوں کے منتظر مخالفوں کو ذلیل خوار کیا یا ان کو آپ کا غلام بنایا دیا۔