15۔ 1 اس سے بعض نے مغرب اور عشاء کے درمیان کا وقت اور بعض نے نصف النہار مراد لیا۔ جبکہ لوگ آرام کر رہے ہوتے ہیں۔
15۔ 2 یعنی فرعون کی قوم قبط میں سے تھا۔
15۔ 3 اسے شیطانی فعل اس لئے قرار دیا کہ قتل ایک نہایت سنگین جرم ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مقصد اسے ہرگز قتل کرنا نہیں تھا۔
15۔ 4 جس کی انسان سے دشمنی بھی واضح ہے اور انسان کو گمراہ کرنے کے لئے وہ جو جو جتن کرتا ہے وہ بھی مخفی نہیں۔