فهرس الكتاب

الصفحة 6218 من 6348

(6) حدیث میں آتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے۔ ابو جہل گزرا تو کہ اے محمد! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے تجھے نماز پڑھنے سے منع نہیں کیا تھا ؟ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سخت دھمکی آمیز باتیں کیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کڑا جواب دیا تو کہنے لگا اے محمد! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو مجھے کس چیز سے ڈراتا ہے؟ اللہ کی قسم، اس وادی میں سب سے زیادہ میرے حمایتی اور مجسل والے ہیں، جس پر یہ آیت نازل ہوئی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں، اگر وہ اپنے حمایتیوں کو بلاتا تو اسی وقت ملائکہ عذاب اسے پکڑ لیتے۔ (ترمذی، تفسیر سورۃ اقرأ مسند أحمد 329/1 وتفسیر ابن جریر) اور صحیح مسلم کے الفاظ ہیں کہ اس نے آگے بڑھ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گردن پر پیر رکھنے کا رادہ کیا کہ ایک دم الٹے پاؤں پیچھے ہٹا اور اپنے ہاتھوں سے اپنا بچاؤ کرنے لگا، اس سے کہا گیا، کیا بات ہے؟ اس نے کہا کہ"میرے اور محمد (صلی اللہ علیہ صلم) کے درمیان آگ کی خندق، ہولناک منظر اور بہت سارے پر ہیں"رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، اگر یہ میرے قریب ہوتا تو فرشتے اس کی بوٹی بوٹی نوچ لیتے (کتاب صفۃ القیامۃ، باب ان الأنسان لیطغیٰ) الزبانیۃ، داروغے اور پولیس۔ یعنی طاقتو لشکر، جس کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت