اس کی شان نزول میں آتا ہے کہ کچھ صحابہ (رض) آپس میں بیٹھے کہہ رہے تھے کہ اللہ کو جو سب سے زیادہ پسندیدہ عمل ہیں وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھنے چاہییں تاکہ ان پر عمل کیا جاسکے، لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا کر پوچھنے کی جرات کوئی نہیں کر رہا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمادی (مسند احمد)