47۔ 1 یہ سلام دعایہ نہیں ہے جو ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو کرتا ہے بلکہ ترک مخاطب کا اظہار ہے جیسے ( وَّاِذَا خَاطَبَہُمُ الْجٰہِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا) 25۔ الفرقان:63) 'جب بے علم لوگ ان سے باتیں کرتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ سلام ہے ' اس میں اہل ایمان اور بندگان الٰہی کا طریقہ بتلایا گیا ہے۔
47۔ 2 یہ اس وقت کہا جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مشرک کے لئے مغفرت کی دعا کرنے کی ممانعت کا علم نہیں تھا، جب یہ علم ہوا تو آپ نے دعا کا سلسلہ موقوف کردیا (وَمَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰہِیْمَ لِاَبِیْہِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّعَدَھَآ اِیَّاہُ ۚ فَلَمَّا تَـبَیَّنَ لَہٗٓ اَنَّہٗ عَدُوٌّ لِّلّٰہِ تَبَرَّاَ مِنْہُ ۭ اِنَّ اِبْرٰہِیْمَ لَاَوَّاہٌ حَلِیْمٌ) 9۔ التوبہ:114)