فهرس الكتاب

الصفحة 4258 من 6348

اس سورت کا دوسرا نام فصّلت ہے اس کی شان نزول کی روایات میں بتلایا گیا ہے کہ ایک مرتبہ سرداران قریش نے باہم مشورہ کیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیروکاروں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہی ہو رہا ہے ہمیں اس کے سد باب کے لیے ضرور کچھ کرنا چاہیے چنانچہ انہوں نے اپنے میں سے سب سے زیادہ بلیغ و فصیخ آدمی عتبہ بن ربیعہ کا انتخاب کیا تاکہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گفتگو کرے چنانچہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں گیا اور آپ پر عربوں میں انتشار و افتراق پیدا کرنے کا الزام عائد کر کے پیشکش کی کہ اس نئی دعوت سے اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مقصد مال ودولت کا حصول ہے تو وہ ہم جمع کیے دیتے ہیں قیادت وسیادت منوانا چاہتے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہم اپنا لیڈر اور سردار مان لیتے ہیں کسی حسین عورت سے شادی کرنا چاہتے ہیں تو ایک نہیں ایسی دس عورتوں کا انتظام ہم کردیتے ہیں اور اگر آپ پر آسیب کا اثر ہے جس کے تحت آپ ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں تو ہم اپنے خرچ پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا علاج کرا دیتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی تمام باتیں سن کر اس سورت کی تلاوت اس کے سامنے فرما‏ئی جس سے وہ بڑا متاثر ہوا اس نے واپس جا کر سرداران قریش کو بتلایا کہ وہ جو چیز پیش کرتا ہے وہ جادو اور کہانت ہے نہ شعر وشاعری مطلب اس کا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت پر سرداران قریش کو غور و فکر کی دعوت دینا تھا لیکن وہ غور وفکر کیا کرتے؟ الٹا عتبہ پر الزام لگا دیا کہ تو بھی اس کے سحر کا اسیر ہوگیا ہے یہ روایات مختلف انداز سے اہل سیر وتفسیر نے بیان کی ہیں امام ابن کثیر اور امام شوکانی نے بھی انہیں نقل کیا ہے امام شوکانی فرماتے ہیں یہ روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ قریش کا اجتماع ضرور ہوا انہوں نے عتبہ کو گفتگو کے لیے بھیجا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے اس سورت کا ابتدا‏ئی حصہ سنایا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت