فهرس الكتاب

الصفحة 6325 من 6348

اسے سورۃ المسد بھی کہتے ہیں۔ اس کی شان نزول میں آتا ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم ہوا کہ اپنے رشتہ داروں کو انذار و تبلیغ کریں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفا پہاڑی پر چڑھ کر یا صباحاہ! کی آواز لگائی۔ اس طرح کی آواز خطرے کی علامت سمجھی جاتی ہے، چنانچہ اس آواز پر لوگ اکٹھے ہوگئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، ذرا بتلاؤ، اگر میں تمہیں خبردوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر ایک گھڑ سوار لشکر ہے جو تم پر حملہ آور ہوا چاہتا ہے، تو تم میری تصدیق کرو گے؟ انہوں نے کہا، کیوں نہیں۔ ہم نے کبھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھوٹا نہیں پایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ پھر میں تمہیں ایک بڑے عذاب سے ڈرانے آیا ہوں۔ (اگر تم کفر و شرک میں مبتلا رہے) یہ سن کر ابو لہب نے کہا تباً لنا تیرے لیے ہلاکت ہو، کیا تو نے ہمیں اس لیے جمع کیا تھا ؟ جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورۃ نازل فرما دی۔ (صحیح بخاری، تفسیر سورۃ تبت) ابو لہب کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا، اپنے حسن جمال اور چہرے کی سرخی کی وجہ سے اسے ابو لہب (شعلہ فروزاں) کہا جاتا تھا۔ علاوہ ازیں اپنے انجام کے اعتبار سے بھی اسے جہنم کی آگ کا ایندھن بننا تھا۔ یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حقیقی چچا تھا، لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا شدید دشمن تھا اور اس کی بیوی ام جمیل بنت حرب بھی دشمنی میں اپنے خاوند سے کم نہ تھی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت