21۔ 1 جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے علم میں یہ بات آئی تو وہاں سے نکل کھڑے ہوئے تاکہ فرعون کی گرفت میں نہ آ سکیں۔
21۔ 2 یعنی فرعون اور اس کے درباریوں سے، جنہوں نے باہم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا مشورہ کیا تھا، کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کوئی علم نہ تھا کہ کہاں جانا ہے؟ کیونکہ مصر چھوڑنے کا یہ حادثہ بالکل اچانک پیش آیا، پہلے سے کوئی خیال یا منصوبہ نہیں تھا، چنانچہ اللہ نے گھوڑے پر ایک فرشتہ بھیج دیا، جس نے انھیں راستے کی نشان دہی کی واللہ اعلم (ابن کثیر)