فهرس الكتاب

الصفحة 3312 من 6348

34۔ 1 اسرائیلی روایات کی رو سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان میں لکنت تھی، جس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے آگ کا انگارہ اور کھجور یا موتی رکھے گئے تو آپ نے انگارہ اٹھا کر منہ میں رکھ لیا تھا جس سے آپ کی زبان جل گئی۔ یہ وجہ صحیح ہے یا نہیں؟ تاہم قرآن کریم کی اس نص سے یہ تو ثابت ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں حضرت ہارون (علیہ السلام) فصیح اللسان تھے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان میں گرہ تھی۔ جس کے کھولنے کی دعا انہوں نے نبوت سے سرفراز ہونے کے بعد کی۔ ردءا کے معنی ہیں معین، مددگار تقویت پہنچانے والا۔ یعنی ہارون (علیہ السلام) اپنی فصاحت لسانی سے مجھے مدد اور تقویت پہنچائیں گے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت