60۔ 1 رَ حْمٰن، رَ حِیْم اللّٰہ کی صفات اور اسمائے حسنٰی میں سے ہیں لیکن اہل جاہلیت، اللہ کو ان ناموں سے نہیں پہچانتے تھے جیسا کہ صلح حدیبیہ کے موقعے پر جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معاہدے کے آغاز پر بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیْمِ لکھوایا تو مشرکین مکہ نے کہا، ہم رحمٰن و رحیم کو نہیں جانتے۔ بِاسْمِکَ اللَّھُمَّ! لکھو (سیرت ابن ہشام۔ 2۔ 317) مذید دیکھئے (کَذٰلِکَ اَرْسَلْنٰکَ فِیْٓ اُمَّۃٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہَآ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَا۟ عَلَیْہِمُ الَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ وَہُمْ یَکْفُرُوْنَ بالرَّحْمٰنِ ۭ قُلْ ہُوَ رَبِّیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَاِلَیْہِ مَتَابِ) 13۔ الرعد:30) (قُلِ ادْعُوا اللّٰہَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ ۭ اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَہُ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰی ۚ وَلَا تَجْـہَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِہَا وَابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلًا) 17۔ الاسراء:110) یہاں بھی ان کا رحمٰن کے نام سے بدکنے اور سجدہ کرنے سے گریز کرنے کا ذکر ہے۔