فهرس الكتاب

الصفحة 114 من 6343

ایک شریعت کے بعد دوسری شریعت کا ظہور اس لیے ہوا کہ یا تو"نسخ"کی حالت طاری ہوئی۔ یا"نسیان"کی۔"نسخ"یہ ہے کہ ایک بات پہلے سے موجود تھی لیکن موقوف ہوگئی، اور اس کی جگہ دوسری بات آگئی"نسیان"کے معنی بھول جانے کے ہیں۔ بعض حالتوں میں ایسا ہوا کہ پھچلی شریعت کسی نہ کسی شکل میں موجود تھی، لیکن احوال و ظروف بدل گئے تھے، یا اس کے پیرووں کی عملی روح معدوم ہوگئی تھی۔ اس لیے ضروری ہوا کہ نئی شریعت ظہور میں آئے۔ بعض حالتوں میں ایسا ہوا کہ امتداد وقت سے پچھلی تعلیم بالکل فراموش ہوگئی، اور اصلیت میں سے کچھ باقی نہ رہا، پس لامحالہ تجدید ہدایت ناگزیر ہوئی۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ یہ نسخ شرائع ہو یا نسیان شرائع، لیکن ہر نئی تعلیم پچھلی تعلیم سے بہتر ہوگی یا اس کے مانند ہوگی۔ ایسا نہیں ہوتا کہ کمتر ہو۔ کیونکہ اصل تکمیل و ارتقاء ہے، نہ کہ تنزل و تسفل۔ کثرت سوال اور تعمق فی الدین کی ممانعت۔"تعمق"یعنی ضرورت سے زیادہ باریکیاں نکالنی اور کاوشیں کرنی اور ایک سیدھے سادھے عماملہ کو پیچیدہ بنا دینا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت