فهرس الكتاب

الصفحة 2449 من 6343

پچھلی سورتوں میں گزر چکا ہے کہ جب حضرت موسیٰ طور پر معتکف ہونے کے لیے گئے تو قوم کو حضرت ہارون کی نگرانی میں چھوڑ گئے تھے، ان کی عدم موجودگی میں سامری کا فتنہ ظہور میں آیا۔ یہاں آیت (83) میں اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ حضرت موسیٰ جب قوم کو پیچھے چھوڑ کر طور پر پہنچ گئے تو وحی الہی نے انہیں مخاطب کیا، کس بات نے تجھے قوم کی طرف سے اس درجہ مطمئن کردیا کہ فورا انہیں چھوڑ کر چلا آیا؟ حضرت موسیٰ جو پیش آنے والے واقعہ سے بے خبر تھے بولے میں نے مقررہ وقت پر آنے میں جلدی کی کہ تو رضا مند ہو اور قوم میرے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ فرمایا ہاں مگر قوم کا یہ حال ہے کہ اتنے ہی دنوں میں گمراہ ہوگئی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت