(18) پھر آیت نمبر 31 میں غص بصر اور حفظ ستر کے علاوہ عورتوں کو خصوصیت کے ساتھ یہ حکم دیا گیا کہ ان مذکورہ محارم کے علاوہ کسی کے سامنے اپنی زبیائش کی چیزیں ظاہر نہ کریں ہاں جو زیبائش از خود ظاہر ہوں تو بحالت مجبوری اس کے کھلارہنے میں کچھ مضائقہ نہیں۔ علما نے الا ماظھر منھا، کی تفسیر میں فقی موشگافیاں بھی کی ہیں اور لکھا ہے کہ چہرہ اور ہاتھ ستر میں داخل نہیں ہیں لہذا ان کا کھلا رکھنا جائز ہے مگر یہ بات قابل غور ہے کہ زیر بحث آیت میں ستر کا بیان ہے حجاب کا نہیں اور حجاب ستر سے ایک زائد چیز ہے جو غیر محرم اور عورتوں کے درمیان حائل کردیا گیا ہے لہذا دونوں کے احکام الگ الگ ہیں۔