فهرس الكتاب

الصفحة 259 من 6343

اگر قوموں اور جماعتوں کی باہمی کش مکش اور مدافعت نہ ہوتی اور ہر جماعت اپنی اپنی حالت میں بغیر منازعت کے چھوڑ دی جاتی تو نتیجہ یہ نکلتا کہ دنیا ظلم و فساد سے بھر جاتی اور حق و عدالت کا نام و نشان باقی نہ رہتا۔ پس یہ اللہ کا بڑا ہی فضل ہے کہ جب کبھی ایک گروہ ظلم و فساد میں چھوٹ ہوجاتا ہے تو مزاحمت کے محرکات دوسرے گروہ کو مدافعت کے لیے کھڑا کردیتے ہیں، اور ایک قوم کا ظلم دوسری قوم کی مقاومت سے دفع ہوتا ہے رہتا ہے

پس دفع مظالم کے لیے جنگ ناگزیر ہوئی، خدا نے مختلف عہدوں میں یکے بعد دیگرے اپنے پیغمبر مبعوث کیے اور انہوں نے لوگوں کو تفرقہ و فساد کی جگہ حق پرستی و یگانگت کی تعلیم دی۔ اگر لوگ اس تعلیم پر قائم رہتے اور گروہ بندیاں کرکے الگ الگ نہ ہوجاتے، تو آپس میں جنگ و نزاع نہ کرتے، لیکن انہوں نے ایک دوسرے کے خلاف جتھا بندی کرلی، اور باہمی جنگ و خونریزی کا ایسا بیج بو دیا جو اب ہمیشہ پھل لاتا رہتا ہے اگر خدا چاہتا تو طبیعت بشری ایسی بناتا کہ اس میں خلاف و نزاع کا مادہ ہی نہ ہوتا اور کسی ایک حالت معیشت پر مجبور کردیا جاتا۔ لیکن اس کی حکمت کا فیصلہ یہی ہوا کہ انسان کو مجبور و مضطر نہ بنائے اور ہر راہ میں چلنے کی قدرت دے دے۔ پس کتنے ہی ہیں جو ہدایت کی راہ اختیار کرتے ہیں، کتنے ہی ہیں جو گمراہی کو ترجیح دیتے ہیں

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت