فهرس الكتاب

الصفحة 1149 من 6343

آیت (189) میں مشرکوں کی یہ گمراہی واضح کی ہے کہ اپنی احتیاجوں اور مصیبتوں میں خدا سے التجائیں کرتے ہیں لیکن جب مطلب حاصل ہوجاتا ہے تو اسے ان آستانوں اور معبودوں کی بخشش سمجھنے لگتے ہیں جو انہوں نے ٹھہرا رکھے ہیں۔

چنانچہ مشرکین عرب مصیبتوں میں خدا ہی کو پکارتے تھے۔ لیکن جب مصیبت ٹل جاتی تو اپنے بنائے ہوئے آستانوں پر نذریں چڑھاتے اور اپنی اولاد کو ان کی طرف منسوب کرتے اور کہتے یہ انہی کی بخشش ہے کہ ہمیں اولاد ملی۔ اس آیت سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ شرک کی قسموں میں سے ایک قسم شرک فی التسمیہ ہے۔ یعنی غیر خدا کی طرف منسوب کر کے نام رکھنا۔ چنانچہ مشرکین عرب عبدالعزی، عبد الشمس وغیرہا نام رکھتے تھے اور افسوس ہے کہ مسلمان بھی اب اسی طرح کے نام رکھنے لگے ہیں۔

(1) تغاشاھا کے معنی یہ ہیں کہ جب وہ ڈھانپ لیتا ہے اور یہ عربی میں اس بات کے لیے کنایہ ہے جسے ہم نے اردو میں ملتفت ہونے سے ادا کیا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت