فهرس الكتاب

الصفحة 4484 من 6343

(4) آیت 28 میں دوسری قوم سے مراد وہ لوگ ہیں جوفرعون کے بعد مصر کے وارث ہوئے کیونکہ تاریخوں سے کہیں بھی ثابت نہیں ہے کہ مصر سے نکلنے کے بعد کبھی بنی اسرائیل واپس گئے ہوں اور اس سرزمین کے وارث ہوئے ہوں مگر سورۃ شعراء میں ہے، کذالک و اور ثنھا بنی اسرائیل، اسی ہم نے بنی اسرائیل کو اس کا وارث بنادیا۔ سورۃ اعراف کی آیت 137 سے یہی مفہوم ہوتا ہے شاہ صاحب نے اپنی توضیحات میں بنی اسرائیل ہی مراد لیے ہیں اور لکھا ہے کہ فرعون کے غرق ہونے کے پیچھے بنی اسرائیل کا دخل مصر میں ہوا۔ تاریخ کی رعایت کرتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ فراعنہ کی شان وشوکت کا وارث بنی اسرائیل کو بنادیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت