فهرس الكتاب

الصفحة 119 من 6343

اہل مذاہب کی عالمگیر گمراہی یہ ہے کہ انہوں نے دین کی سچائی جو ایک ہی تھی اور یکساں طور پر سب کو دی گئی تھی مذہبی گروہ بندیوں کے الگ الگ حلقے بنا کر ضائع کردی۔ اب ہر گروہ دوسرے گروہ کو جھٹلاتا ہے اور صرف اپنے ہی کو سچائی کا وارث سمجھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس نزاع کا فیصلہ کیونکر ہو؟ اگر کوئی ایک گروہ ہی سچا ہے تو کیوں وہی سچا ہو دوسرے سچے نہ ہوں؟ اگر سب سچے ہیں تو پھر کوئی بھی سچا نہیں کیونکہ ہر گروہ دوسرے کو جھٹلا رہا ہے۔ اگر سب جھوتے ہیں تو پھر خدا کی سچائی گئی کہاں؟

قرآن کہتا ہے خدا کی سچائی سب کے لیے ہے اور سب کو ملی تھی لیکن سب نے سچائی سے انحراف کیا۔ سب اصل کے اعتبار سے سچے اور سب عمل کے اعتبار سے جھوٹے ہیں۔ میں چاہتا ہوں اسی مشترک اور عالمگیر سچائی پر سب کو جمع کردوں اور مذہبی نزاع کا خاتمہ ہوجائے۔ یہ مشترک اور عالمگیر سچائی کیا ہے؟ خدا پرستی اور نیک عملی کا قانون ہے۔ یہی قانون خدا کا ٹھہرایا ہوا دین ہے اور اسی کو میں"الاسلام"کے نام سے پکارتا ہوں۔

یہودی کہتے تھے، جب تک ایک انسان یہودی گروہ بندی میں داخل نہ ہو نجات نہیں پاسکتا۔ عیسائی کہتے تھے، جب تک عیسائی گروہ بندی میں داخل نہ ہو نجات نہیں مل سکتی۔ قرآن کہتا ہے نجات کا دارومدار خدا پرستی اور نیک عملی پر ہے، نہ کسی خاص گروہ بندی پر۔ جو انسان بھی خدا پرست اور نیک عمل ہوگا نجات پائے گا۔ خواہ تمہاری گھڑی ہوئی گروہ بندیوں میں داخل ہو یا نہ ہو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت