فهرس الكتاب

الصفحة 3412 من 6343

(16) اس عہد میں مسلمان جن مصائب اور حوصلہ شکن حالات سے دوچار ہیں شروع سورۃ سے یہاں تک صبر واستقامت کی تلقین کی ہے اور اب ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کو کچھ عملی احکام پرکاربند رہنے کا حکم دیا جارہا ہے اور وہ ہے قرآن کی تلاوت اور اقامت صلوۃ۔ کیونکہ یہی دوچیزیں ایسی ہیں جوکسی مسلمان کے کردار میں مضبوطی کاسبب بن سکتی ہیں لیکن ان دونوں عبادتوں سے اخلاقی طاقت جبھی حاصل ہوسکتی ہے کہ قرآن کا حق تلاوت ادا کرے اور صحیح معنوں میں نماز ادا کرے۔ جوکام قبیح ہوں جیسے حرام کاری، ان کو فحشاء کہتے ہیں اور قانون اسلام نے جن کی اجازت نہ دی وہ منکر ہیں آیت کریمہ کی تفسیر میں ابوالعالیہ کا قول ہے کہ نماز کی تین خصلتیں ہیں ان میں کوئی بھی خصلت کسی نماز میں نہ ہو تو وہ نماز ہی نہیں، وہ خصلتیں یہ ہیں (1) خلوص۔ 2۔ خوف خدا۔ 3 یادالٰہی۔ خلوص کا فعل یہ ہے کہ وہ نماز پڑھنے ولے کو نماز کا حکم دیتا ہے، خوف خدا اسے بدی سے روکتا ہے اور یاد الٰہی (قرآن) کا فعل امر ونہی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت