فهرس الكتاب

الصفحة 1545 من 6343

حضرت صالح نے کہا تم غور نہیں کرتے کہ اگر ایک شخص پر اللہ نے علم و بصیرت کی راہ کھول دی ہو اور وہ دیکھ رہا ہو کہ سچائی وہ نہیں ہے جو لوگوں نے سمجھ رکھی ہے تو پھر کیا محض لوگوں کے پاس خاطر سے اس کا اظہار نہ کرے؟ اچھا بتلاؤ اگر وہ حکم حق سے سرتابی کرے تو کون ہے جو خدا کے مواخذہ سے اسے بچا لے گا؟ اگر میں محض اس خیال سے کہ تمہاری امیدوں کو ٹھیس نہ لگے سچائی کا اعلان نہ کروں تو اس کا مطلب یہی ہوگا کہ اپنے آپ کو تباہی میں ڈال دوں۔ بہرحال انہوں نے سرکشی کی، نتیجہ یہ نکلا کہ مومنوں نے نجات پائی۔ سرکش ہلاکت ہوئے۔ اونٹنی کے معاملہ کی تشریح اعراف (73) کے نوٹ میں گزر چکی ہے۔

حضرت ہود اور حضرت صالح کی سرگزشتوں میں اختصار ملحوظ رہا، کیونکہ ان دونوں کا ظہور عرب ہی میں ہوا تھا، اور مخاطبینن ان سے ناآشنا نہ تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت