فهرس الكتاب

الصفحة 1639 من 6343

عزیز کی بیوی کا دھمکی دینا کہ اگر کہا نہ مانو گے تو قید میں ڈالے جاؤ گے اور حضرت یوسف کا معصیت پر قید کو ترجیح دینا اور قید خانہ میں بھی تبلیغ حق سے غافل نہ ہونا۔ عزیز پر حضرت یوسف کی سچائی ظاہر ہوئی گھی اس لیے ان کے لیے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی لیکن اس کی بیوی کا عشق ایسا نہ تھا جو اس ناکامی سے سرد پڑجاتا، وہ اور زیادہ بڑھ گیا، اور جب دیکھا کہ طلب و الحاح سے کسی طرح کام نہیں بنتا تو سختی پر اتر آئی اور یوسف سے کہا یا تو میرا کہا مانو نہیں تو قیدی ہونے کی ذلت و رسوائی گوارا کرو۔ حضرت یوسف نے کہا قید خانہ مجھے پسند پے لیکن راستی سے منحرف ہونا پسند نہیں۔

تورات میں ہے کہ جب یوسف قید خانے میں ڈالا گیا تو قید خانے کا داروغہ اس پر مہربان ہوگیا اور تمام قیدیوں کا انتظام اس کے سپرد کردیا وہ قید خانہ کا بالکل مختار ہوگیا تھا اور خداوند نے وہاں بھی اسے اس کے تمام کاموں میں اقبال مند کیا۔ (پیدائش: 22: 39) قرآن کی آیت (36) میں بھی اس کے اشارات موجود ہیں۔ اول تو دو قیدیوں کا خواب کی تعبیر پوچھا ہی اس کی دلیل ہے کہ انہیں غیر معمولی علم و فضیلت کا آدمی سمجھا جاتا تھا، پھر ان دونوں کا یہ کہنا کہ ہم دیکھتے ہیں تم بڑے نیک آدمی ہو، صاف طور پر واضح کردیتا ہے کہ قید خانے میں ان کا تقدس عام طور پر تسلیم کیا جاتا تھاْ تورات میں ہے کہ ان قیدیوں میں ایک بادشاہ کے ساتھیوں کا سردار تھا، دوسرا روٹی پکانے والوں کا، بادشاہ ان پر ناراض ہوا اور قید خانے میں بھیج دیاْ یوسف ہر روز قیدیوں کا معائنہ کیا کرتا تھا، ایک دن انہیں دیکھا کہ بہت ادا بیٹھے ہیں، سبب پوچھا تو انہوں نے کہا، ہم نے آج رات کو ایسی ایسی باتیں خواب میں دیکھی ہیں۔ (پیدائش: 1: 40)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت