فهرس الكتاب

الصفحة 2045 من 6343

ہجرت مدینہ سے تقریبا ایک سال پہلے پیغمبر اسلام کو اسری کا معاملہ پیش آیا جو عام طور پر معراج کے نام سے مشہور ہے، اس سورت کی ابتدا اسی واقعہ کے ذکر سے کی گئی ہے اور واضح کیا ہے کہ اس معاملہ سے مقصود کیا تھا: (لنریہ من ایتنا) تاکہ اللہ کی نشانیاں ان کے مشاہدہ میں آجائیں۔ یعنی دلائل حقیقت کا عینی مشاہدہ کرلیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ معاملہ وحی کی تکمیل تھا۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد فرمایا: (واتینا موسیٰ الکتاب) اسی طرح حضرت موسیٰ کا معاملہ وحی بھی کوہ طور کے اعتکاف میں مکمل ہوا تھا کہ (ولما جاء موسیٰ لمیقاتنا وکلمہ ربہ) اور انہیں کتاب شریعت دی گئی تھی۔

(انہ ھو السمیع البصیر) وہی ہے جو سننے والا، دیکھنے والا ہے۔ پس جسے چاہیے اس سے زیادہ سنا دے، جتنا سب سن رہے ہیں اور اس سے زیادہ دکھا دے، جتنا سب دیکھ رہے ہیں۔

یہاں مسجد حرام سے مقصود مکہ ہے، اور مسجد اقصی سے بیت المقدس کا ہیکل۔ اسے اقصی اس لیے فرمایا کہ عرب کے لیے قریب کی عبادت گاہ خانہ کعبہ اور دور کی عبادت گاہ ہیکل۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت