فهرس الكتاب

الصفحة 1028 من 7563

کتاب: استسقاء یعنی پانی مانگنے کا بیان

باب: استسقاء میں قبلہ کی طرف منہ کرنا

1028 َحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ الأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى المُصَلَّى يُصَلِّي، وَأَنَّهُ لَمَّا دَعَا - أَوْ أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ - اسْتَقْبَلَ القِبْلَةَ وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ» قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: «عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ هَذَا مَازِنِيٌّ، وَالأَوَّلُ كُوفِيٌّ هُوَ ابْنُ يَزِيد

ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبد الوہاب ثقفی نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں یحییٰ بن سعید انصاری نے حدیث بیان کی، کہا کہ مجھے ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے خبر دی کہ عباد بن تمیم نے انہیں خبر دی اور انہیں عبد اللہ بن زیدانصاری نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( استسقاء کے لیے ) عیدگاہ کی طرف نکلے وہاں نماز پڑھنے کو جب آپ دعا کرنے لگے یا راوی نے یہ کہا دعا کا ارادہ کیا تو قبلہ رو ہو کر چادر مبارک پلٹی۔ ابو عبد اللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ اس حدیث کے راوی عبداللہ بن زید مازنی ہیں اور اس سے پہلے باب الدعا فی الاستسقاءمیں جن کا ذکر گزرا اور وہ عبد اللہ بن یزید ہیں کوفہ کے رہنے والے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت