فهرس الكتاب

الصفحة 1045 من 7563

کتاب: سورج گرہن کے متعلق بیان

باب: گرہن میں نماز کے لئے پکارنا

1045 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامِ بْنِ أَبِي سَلَّامٍ الْحَبَشِيُّ الدِّمَشْقِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ الزُّهْرِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا كَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُودِيَ إِنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ

ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں یحی بن صالح نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم سے معاویہ بن سلام بن ابی سلام رحمہ اللہ تعالی حبشی دمشقی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف زہری نے خبر دی، ان سے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو یہ اعلان کیا گیا کہ نماز ہونے والی ہے۔

مقصد باب یہ ہے کہ گرہن کی نماز کے لیے اذان نہیں دی جاتی مگر لوگوں میں اس طورپر اعلان کرانا کہ نماز گرہن جماعت سے ادا کی جانے والی ہے لہذا لوگو شرکت کے لیے تیار ہو جاؤ اس طرح پر اعلان کرانے میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ ایسا اعلان کرانا حدیث ذیل سے ثابت ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گرہن کی نماز خاص اہتمام جماعت کے ساتھ پڑھنی چاہیے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت