2680 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا، بِقَوْلِهِ: فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ فَلاَ يَأْخُذْهَا
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا امام مالک سے ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے باپ نے ، ان سے زینب نے اور ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، تم لوگ میرے یہاں اپنے مقدمات لاتے ہو اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک تم میں دوسرے سے دلیل بیان کرنے میں بڑھ کر ہوتا ہے ( قوت بیان یہ بڑھ کر رکھتا ہے ) پھر میں اس کو اگر اس کے بھائی کا حق ( غلطی سے ) دلادوں ، تو وہ حلال ( نہ سمجھے ) اس کو نہ لے ، میں اس کو دوزخ کا ایک ٹکڑا دلارہا ہوں ۔
اس حدیث میں امام مالک، شافعی، امام احمد اور جمہور علماءکا مذہب ثابت ہوا کہ قاضی کا حکم ظاہرًا نافذ ہوتا ہے نہ کہ باطنًا، یعنی قاضی اگر غلطی سے کوئی فیصلہ کردے تو جس کے موافق فیصلہ کرے عنداللہ اس کے لیے وہ شے درست ہوگی اور حنفیہ کا رد ہوا جن کے نزدیک قاضی کی قضا ظاہرًا اور باطنًا دونوں طرح نافذ ہوجاتی ہیں۔ حدیث سے بھی یہی نکلا کہ پیغمبر صاحب صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دھوکہ ہوجانا ممکن تھا اور آپ کو علم غیب نہ تھا اور جب آپ سے جو سارے جہاں سے افضل تھے۔ غلطی ہوجانا ممکن ہوا تو اور کسی قاضی یا مجتہد یا امام یا عالم کی کیا حقیقت اور کیا ہستی ہے اوربڑا بے وقوف ہے وہ شخص جو کسی مجتہد یا پیر کو خطا سے معصوم سمجھے۔ ( وحیدی )