فهرس الكتاب

الصفحة 1725 من 7563

کتاب: حج کے مسائل کا بیان

باب : اس کے متعلق جس نے احرام کے وقت سر کے بالوں کو جما لیا اور احرام کھولتے وقت سر منڈا لیا

1725 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا بِعُمْرَةٍ وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ قَالَ إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا وجہ ہوئی کہ اور لوگ تو عمرہ کرکے حلال ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کر لیا اورحلال نہ ہوئے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے سر کے بال جما لئے تھے اور قربانی کے گلے میں قلادہ پہنا کر میں (اپنے ساتھ ) لایا ہوں، اس لیے جب تک میں نحر نہ کرلوں گا میں احرام نہیں کھولوں گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت