فهرس الكتاب

الصفحة 2157 من 7563

کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان

باب : کیا کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان کسی اجرت کے بغیر بیچ سکتا ہے؟

2157 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ قَيْسٍ سَمِعْتُ جَرِيرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے، انہوں نے جریر رضی ا للہ عنہ سے یہ سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی شہادت پر کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اور نماز قائم کرنے اور زکوۃ دینے اور ( اپنے مقررہ امیر کی بات ) سننے اور اس کی اطاعت کرنے پر اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے کی بیعت کی تھی۔

یہ حدیث کتاب الایمان میں بھی گزر چکی ہے۔ یہاں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے یہ نکالا کہ جب ہر مسلمان کی خیر خواہی کا اس میں حکم ہے تو اگر بستی والا باہر والے کا مال بلا اجرت بیچ دے اور اس کی خیرخواہی کرے تو ثواب ہوگا نہ کہ گناہ۔ اب اس حدیث کی تاویل یہ ہوگی جس میں اس کی ممانعت آئی ہے کہ ممانعت اس صورت میں ہے جب اجرت لے کر ایسا کرے۔ اور بستی والوں کو نقصان پہنچانے اور اپنا فائدہ کرنے کی نیت ہو، یہ ظاہر ہے کہ ناجائز ہے، انما الاعمال بالنیات، اور اگر محض خیر خواہی کے لیے ایسا کر رہا ہے تو جائز ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت