فهرس الكتاب
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
- 📄
باب: لفظ" اگر مگر" کے استعمال کا جواز
7238 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ ذَكَرَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْمُتَلَاعِنَيْنِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ أَهِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا امْرَأَةً مِنْ غَيْرِ بَيِّنَةٍ قَالَ لَا تِلْكَ امْرَأَةٌ أَعْلَنَتْ
ہم سے علی بن عبد اللہ نے بیان کیا ' کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ' کہا ہم سے ابو الزناد نے بیان کیا ' ان سے قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے دو لعان کرنے والوں کا ذکر کیا تو اس پر عبد اللہ بن شداد نے پوچھا ' کیا یہی وہ ہیں جن کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ " اگر میں کسی عورت کو بغیر گواہ کے رجم کرسکتا تو اسے کرتا " ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں وہ ایک عورت تھی جو ( اسلام لانے کے بعد ) کھلے عام ( فحش کام ) کرتی تھی۔
مگر قاعدے سے ثبوت نہ تھا یعنی چار عینی گواہ نہیں تھے ۔