فهرس الكتاب

الصفحة 2723 من 7563

کتاب: شرائط کے مسائل کا بیان

باب : جو شرطیں نکاح میں جائز نہیں ان کا بیان

2723 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلاَ تَنَاجَشُوا، وَلاَ يَزِيدَنَّ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلاَ يَخْطُبَنَّ عَلَى خِطْبَتِهِ، وَلاَ تَسْأَلِ المَرْأَةُ طَلاَقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَكْفِئَ إِنَاءَهَا»

ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ، ان سے معمر نے بیان کیا ، ان سے زہری نے ، ان سے سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کوئی شہری کسی د یہاتی کامال تجارت نہ بیچے ۔ کوئی شخص نجش نہ کرے اور نہ اپنے بھائی کی لگائی ہوئی قیمت پر بھاو¿ بڑھائے ۔ نہ کوئی شخص اپنے کسی بھائی کے پیغام نکاح کی موجودگی میں اپنا پیغام بھیجے اور نہ کوئی عورت ( کسی مرد سے ) اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ کرے ( جو اس مرد کے نکاح میں ہو ) تاکہ اس طرح اس کا حصہ بھی خود لے لے ۔

کوئی سوکن اپنی بہن کو طلاق دلوانے کی شرط لگائے تو یہ شرط درست نہ ہوگی، باب اور حدیث میں اسی سے مطابقت ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت