فهرس الكتاب

الصفحة 6099 من 7563

کتاب: اخلاق کے بیان میں

باب: تکلیف پر صبر کرنے کا بیان

6099 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الأَعْمَشُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ أَحَدٌ، أَوْ: لَيْسَ شَيْءٌ أَصْبَرَ عَلَى أَذًى سَمِعَهُ مِنَ اللَّهِ، إِنَّهُمْ لَيَدْعُونَ لَهُ وَلَدًا، وَإِنَّهُ لَيُعَافِيهِمْ وَيَرْزُقُهُمْ

ہم سے مسددبن مسرہدنے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، کہا مجھ سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے سعید بن جبیر نے ، ان سے ابو عبدالرحمن سلمی نے ، ان سے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص بھی یا کوئی چیز بھی تکلیف برداشت کرنے والی ، جو اسے کسی چیز کو سن کر ہوئی ہو ، اللہ سے زیادہ نہیں ہے ۔ لوگ اس کے لئے اولاد ٹھہرا تے ہیں اور وہ انہیں تندرستی دیتا ہے بلکہ انہیں روزی بھی دیتا ہے ۔

دنیا میں سب سے بڑا اتہام وہ ہے جو عیسائیوں نے اللہ کے ذمہ لگا یا ہے کہ حضرت مریم اللہ کی جورو اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں۔لیکن اللہ اتنا بردبار ہے کہ وہ اس اتہام کو ان ظالموں کے لئے تنگی وترشی کا سبب نہیں بناتا بلکہ ان کو زیادہ ہی دیتاہے ۔ سچ ہے۔ اللہ الصمد۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت